Juda hoke bhi lyrics
نہ جانے کب سے ۔۔
امیدیں کچھ باقی ہیں۔
مجھے پھر بھی تیری یاد
کیا آتی ہے؟
نجانے کب سے۔۔
دور جیتنا بھی تم مجھ سے
پاس تیرے مین
اب تو عادت سی ہے مجھ کو ایسے جینے میں
زندگی سے کوئی شکوا بھی نہیں ہے۔
اب تو زندہ ہوں میں اس نیلے اسمان میں
چاہت ایسی ہے یہ تیری
برھتی جائے ۔
آہٹ ایسی ہے یہ تیری مجھکو ستائے ۔
یادیں گہری ہیں اتنی
دل ڈوب جائے ۔
اور آنکھوں میں یہ گم نام بن جائے گا۔
اب تو عادت سی ہے مجھ کو ایسے جینے میں
یہ جو راتیں ہیں۔
یہ جو باتیں ہیں۔
سبی کاٹے ہیں۔
بھولا دو انھین
میٹا دو اُنھیں ۔۔
اب تو عادت سی ہے مجھکو۔۔۔۔۔
Post a Comment